بلاول نے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، کہتے ہیں کہ یہ معیشت پر ‘کنفیوز’ ہے

پی پی پی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ‘پی ٹی آئی-آئی ایم ایف بجٹ’ معاشرے کے غریب طبقات کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو منی بجٹ پر تنقید کا نشانہ بنایا جس میں 350 ارب روپے سے زائد ٹیکس حاصل کرنے کے لیے مختلف اشیا پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

پی پی پی کے ایم این اے نے کہا کہ منی بجٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت معیشت کے بارے میں ابہام کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے ہی کہا تھا کہ معاشی ابتری معیشت کی موت کے مترادف ہے۔

بلاول نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ابتدا میں یہ کہہ کر لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کیں کہ وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس نہیں جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ جب انہیں آئی ایم ایف سے مدد لینے پر مجبور کیا گیا تو انہوں نے ایک ناقص معاہدہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے تب کہا تھا کہ ‘PTI-IMF’ بجٹ معاشرے کے غریب طبقات کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔

پی پی پی کے سربراہ نے یاد دلایا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے 2019 میں ’چارٹر فار اکانومی‘ تجویز کیا تھا اور اسی طرح کی تجویز سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی پیش کی تھی، لیکن حکومت نے نہیں سنی۔ پی پی پی کی چیئرپرسن نے مزید کہا کہ ‘آپ نے ان تجاویز کو نظر انداز کیا اور یکطرفہ فیصلے کیے اور اب قوم نتائج دیکھ سکتی ہے’۔

بلاول نے مزید کہا کہ اگر آپ شہباز شریف اور آصف علی زرداری کی بات سنتے تو اس سے آپ کو فائدہ ہوتا کیونکہ آپ صرف حکومت یا سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہوتے۔

بلاول نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنے منفی معاشی اشاریے کبھی نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم جنگ لڑ رہے تھے، جب ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا، یا جب اسے پابندیوں کا سامنا تھا، اقتصادی ترقی کبھی بھی منفی 0.4 تک نہیں پہنچی۔

بلاول نے کہا کہ پی ٹی آئی نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ ’’نیا پاکستان کا مطلب ہے بے روزگاری، غربت اور مہنگائی،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ’’تبدیلی‘‘ (تبدیلی) نہیں بلکہ ’’تباہی‘‘ (تباہی) ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے لوگوں سے معاشی ترقی کا وعدہ کیا تھا اور کوئی ٹیکس نہیں، لیکن وہ جنوری میں ٹیکسوں کا سونامی لانے کی تجویز دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ بے روزگاری اور مہنگائی میں مزید اضافہ کرے گا، انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں 250 ارب روپے کی کمی کا اثر ہر سطح پر پڑے گا۔

بلاول کے مطابق اتنے ناقص شو میں پی ٹی آئی ووٹ نہیں مانگ سکے گی۔ انہوں نے کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “خیبرپختونخوا کے عوام نے آپ کو پہلی جھلک دی ہے۔”

۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیاں، پیٹرول اور سائیکل سب کچھ مہنگا کر دیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت لیپ ٹاپ اور موبائل انٹرنیٹ پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز دے رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف (بطور وزیراعلیٰ پنجاب) طلباء میں لیپ ٹاپ تقسیم کرتے تھے لیکن آپ نے ایسا کرنے کے بجائے ان پر ٹیکس لگا دیا۔ بلاول نے کہا کہ حکومت نے پاکستان میں بننے والی الیکٹرانکس پر مزید ٹیکس عائد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کا “معاشی قتل” کر رہی ہے۔ منی بجٹ کے ساتھ ہی کھاد کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک زرعی معیشت تھی لیکن حکومت نے اپنے یکے بعد دیگرے بجٹ کے ذریعے قومی معیشت کو تباہ کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں